بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک وقت میں کتنی مرتبہ ہمبستری کرسکتے ہیں؟

سوال

مرد ایک ٹائم میں کتنی بار بیوی سے ہمبستری کر سکتا اور کتنے دنوں بعد کر سکتاہے؟

جواب

 صورت مسئولہ میں شریعت میں  بیوی سے ایک ہی ٹائم میں کتنی مرتبہ ہمبستری کر سکتا ہےاس کی کوئی حد مقرر نہیں، اسی طرح کتنے دنوں کے بعد کر سکتا ہے اس کی بھی کوئی تحدید نہیں، یہ حالات طلب اوراشخاص کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے ، اورپھر جب ہر شخص کی قدرت وطاقت میں فرق ہے اس لیے یہ میاں بیوی کی طبیعت  قدرت ، طاقت اور دیگر حالات پر موقوف ہے، البتہ عورت کی رضامندی کے بغیر چار ماہ  سے زائد تاخیر نہیں کرنی چاہیے،تا کہ اس کی حق تلفی نہ ہو۔

در مختار میں ہے:

"ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحياناولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحيانا، وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة وسبع لأمة. ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها، والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن طاقتها نهر بحثا."

(کتاب النکاح،باب القسم بین الزوجات جلد 3 ص: 202 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101337
تاریخ27-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں