بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی مسلمان کو جنتی یا جہنمی کہنے کا حکم

سوال

کسی مسلمان کے بارے میں بالتعیین جنتی یا جہنمی کہنا کیسا ہے؟ اور اس بارے میں اہل سنت کا کیا عقیدہ ہے؟ حوالوں کے ساتھ جواب مطلوب ہے ۔

جواب

 اہل سنت والجماعت کے نزدیک کسی  مسلمان کوبالتعیین  "جنتی" یا جہنمی " کہنا شرعاً درست نہیں ، کیوں کہ یہ اللہ کے علم میں ہے بندہ کے علم میں نہیں ہے اس لیے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

الکاشف عن حقائق السنن میں ہے :

"وفيه أنه لا يجوز لأحد أن يشهد لأحد بالجنة أو النار، فإن أمور العبد بمشيئة الله وقدره السابق؛ ولهذا قال عليه الصلاة والسلام لعائشة رضي الله عنها: (أو غير ذلك؟) لما قالت على سبيل القطع: (طوبى لهذا، عصفور من عصافير الجنة) تم كلامه."

(کتاب الایمان ،باب الوسوسۃ،ج:2،ص:535،مکتبۃ نزار)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101326
تاریخ27-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں