بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی ماں کی بیٹی سے نکاح کاحکم

سوال

کسی لڑکے کا اپنے ابو کی دوسری بیوی کی بیٹی سے  نکاح ہو سکتا ہے  جب کہ وہ بیٹی کسی دوسرے شوہر سے ہو۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں  لڑکے  کا اپنے والد کی دوسری بیوی کے پہلے شوہر کی بیٹی سے شادی کرنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال۔۔۔(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر. قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب."

(کتاب النکاح، ‌‌فصل في المحرمات، 3/ 31، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101258
تاریخ26-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں