بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غریب کا ایامِ نحر سے پہلے قربانی کی نیت سے جانور خریدنے کا حکم

سوال

میں ایک غریب شخص ہوں ، مجھ پر قربانی واجب نہ ہو نے کے باوجود اگر میں ایام اضحیہ سے پہلے(مثلا ۸ ذی الحج میں یا آج 25/12/2023 ع) میں  قربانی کے لئے ایک جانور خرید تا ہوں،توکیا مجھ پر قربانی واجب ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں قربانی واجب ہونے کی صورت میں قربانی کی نیت سے جانور خریدنے سے ہی سائل پر  اس کی قربانی واجب ہو جائے گی، چاہےیہ خریداری  ایامِ اضحیہ میں ہو یا ایامِ اضحیہ سے پہلے ہو۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أن الشراء للأضحیة ممن لا أضحیة علیه یجري مجری الإیجاب، وهو النذر بالتضحیة عرفًا؛ لأنه إذا اشتریٰ للأضحیة مع فقرہ، فالظاهر أنه یضحي فیصیر کأنه قال جعلت هذہ الشاۃ أضحیة"

(کتاب التضحیة، ج: 5، ص: 62، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101121
تاریخ25-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں