بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بستر ناپاک ہونے کی صورت میں سونے کاحکم

سوال

رات کو اگر احتلام ہو جائے تو  بستر  کے اور کمبل کے گندا ہو نے کا شک ہو تو کیا کریں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں  صرف ناپاکی کا شک ہے جب کہ بستر پر ناپاکی کے اثرات موجود نہیں ہیں تو دھونا لازم نہیں۔ نیز ناپاک ہونے کا یقین ہونے کی صورت میں  اگر نجاست خشک ہوجائے تو اس بستر پر سونا جائز ہے، اور اس پر سونے  سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔ اور اگر نجاست گیلی ہو تو اس پر کوئی ایسا پاک موٹا کپڑا بچھا کر سونا اور اس پر بیٹھنا جائز ہے جس سے نجاست اوپر نہ آئے، اس صورت میں بھی کپڑے وغیرہ ناپاک نہیں ہوں گے۔

مجمع الانھر میں ہے :

"(‌ولو ‌لف ثوب طاهر في رطب نجس فظهرت فيه رطوبته إن كان بحيث لو عصر قطر تنجس) فلا تجوز الصلاة فيه لاتصال النجاسة به (وإلا فلا) هو الأصح (كما لو وضع) الثوب حال كونه (رطبا على مطين بطين نجس جاف) بتشديد الفاء من جف؛ لأن الجفاف يجذب رطوبة الثوب فلا يتنجس، وأما إذا كان رطبا فيتنجس".

(کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، 64/1،: دار إحياء التراث)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100963
تاریخ23-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں