بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خاوند کے لیے بیوی کا دودھ پینا حرام ہے

سوال

کیا شوہر اپنی بیوی کا دودھ پی سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر کے لیے بیوی کا دودھ پینا شرعاً جائز نہیں، اگر اتفاق سے پستان چوستے ہوئے دودھ آ جائے تو تھوک دے، اور جان بوجھ کر بیوی کا دودھ پینے والا گناہ گار ہوتا ہے، ایسے شخص پر توبہ واستغفار لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولم يبح الإرضاع بعد مدته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح". 

(كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:211، ط: سعيد)

وفيه أيضًا:

"مص رجل ثدي زوجته لم تحرم". 

(كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:225، ط:سعيد)

درر الحكام شرح غرر الاحكام میں ہے:

"وقال في شرح المنظومة: الإرضاع بعد مدته حرام؛ لأنه جزء الآدمي والانتفاع به بغير ضرورة حرام على الصحيح".

(كتاب الرضاع، ما يحرم بالرضاع ج:1، ص:356، ط:دارإحياء الكتب العربية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100954
تاریخ23-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں