بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سردی کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھنے کا حکم

سوال

کیا سردی میں نماز گھر میں پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر سردی اتنی سخت اور شدید ہوکہ باہر نکلنے یا مسجد تک جانے میں بیمار ہوجانے یا بیماری میں اضافہ ہونے کا ڈر ہو، تو پھر عذر کی بناء پر گھر میں نماز پڑھ سکتےہیں، لیکن اگر سردی اتنی سخت اور شدید نہ ہو، تو پھر گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فلا تجب على مريض ومقعد وزمن... (ولا على من حال بينه وبينها مطر وطين وبرد شديد وظلمة كذلك) وريح ليلا لا نهارا."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الإمامة، ج: 1، ص: 556،555، ط: سعيد)

حاشیۃ الطحطاوی على مراقی الفلاح میں ہے:

"منها: مطر، ‌وبرد ‌شديد، وخوف ظالم."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الإمامة، ‌‌فصل: يسقط حضور الجماعة بواحد من ثمانية عشر شيئا، ص: 297، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100807
تاریخ21-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں