بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نامحرم عورت کو بغیر نکاح کیے مدینہ لے کر جانا

سوال

ایک شخص  ایک نا محرم مسلم عورت کو چاہتا ہے ، اس سے نکاح بھی کرنا چاہتا ہے، اپنے ساتھ مدینہ دکھانا چاہتا ہے بغیر نکاح کیے،تو کیا وہ ایسا کرسکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کو  وہ  لڑکی پسند ہے،اور اس سے نکاح کا ارادہ بھی ہے،تو نکاح کرکےاس کو اپنی زوجیت میں داخل کرنے کے بعد اس کو مدینہ طیبہ کی زیارت کرانے کے لیے لے کر جاسکتا ہے ،بغیر نکاح کیے غیر محرم سے تعلق رکھنا، اور اسے  اپنے ساتھ  ایسے مقدس مقام میں لے کر جانا ،شرعًا ناجائز  و حرام ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها المحرم للمرأة) شابةً كانت أو عجوزًا إذا كانت بينها و بين مكة مسيرة ثلاثة أيام، هكذا في المحيط. و إن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم، كذا في البدائع. والمحرم الزوج، ومن لايجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة، كذا في الخلاصة."

(کتاب المناسک، ج:1، ص:218، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100803
تاریخ21-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں