بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کتا پالنے کا حکم

سوال

گھر میں کتا پالنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شوقیہ طور پر کتا پالنا ناجائز ہے، حدیثِ پاک میں اس کی ممانعت منقول ہے، ایک حدیث میں ہے کہ جہاں کتا ہوتا ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ  بلاضرورت کتا پالنے والے کے اعمال  میں سے روزانہ ایک قیراط کم کر دیا جاتا ہے؛ لہذا کتوں کو گھر میں رکھنا    خیر  و برکت سے محرومی کا باعث ہے، اس لیے کتوں کے پالنے سے اجتناب بہت ضروری ہے۔

 البتہ  اگر کتے کو  جانوروں  اور  کھیتی کی حفاظت کے لیے  یا  شکار کے لیے  پالا جائے تو اس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وفي الأجناس لا ينبغي أن يتخذ كلبا إلا أن يخاف من اللصوص أو غيرهم۔۔۔۔۔ويجب أن يعلم بأن اقتناء الكلب لأجل الحرس جائز شرعا وكذلك اقتناؤه للاصطياد مباح وكذلك اقتناؤه لحفظ الزرع والماشية جائز كذا في الذخيرة."

(کتاب الکراہیۃ ،الباب الحادی والعشرون فیما یسع من جراحات بنی آدم والحیوانات،ج:5،ص:361،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100795
تاریخ21-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں