بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں بیوی سے زبردستی جماع کرنے کا حکم

سوال

اگر رمضان کے روزے میں شوہر زبردستی ہم بستری کرلے ( روکنے کے باوجود) تو کیا بیوی پر بھی 60 روزوں کا کفارہ ہوگا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں اگر شوہر نے بیوی کے منع کرنے کے باوجود رمضان المبارک میں زبردستی ہم بستری کرلی،  تو شوہر پر روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں، شوہر گناہ گار بھی ہوگا، اسے چاہیے کہ صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے۔ البتہ بیوی پر صرف روزہ کی قضا لازم ہوگی،کفارہ لازم نہیں ہوگا ۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة، وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة، وكذا إذا كانت مكرهة في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصوم ،الباب الرابع فیما یفسد ومالایفسد ،ج:1،ص:205،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100721
تاریخ20-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں