بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سینما ہال میں وائرنگ کا کام کرنا اور اس کی اجرت کا حکم

سوال

میں بجلی کا کام کرتا ہوں مجھے سینما ہال میں بجلی کی وائرنگ کا کام ملا ہے، کیا میرے لیے اس کی کمائی حلال ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سینما میں بجلی کی وائرنگ کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اورایسی جگہوں سے حاصل شدہ آمدنی بھی حرام ہوگی،لہٰذاایک مسلمان کو  اس طرح کی جگہوں میں کام کرنے سے اپنے آپ کو بچانا لازم ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

{وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان} (المائدہ:2)

ترجمہ:"    اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو۔ "(بیان القرآن)

بدائع الصنائع میں ہے :

"ومن استأجر حمالا يحمل له الخمر فله الأجر في قول أبي حنيفة,وعند أبي يوسف ومحمد لا أجر له كذا ذكر في الأصل، وذكر في الجامع الصغير أنه يطيب له الأجر في قول أبي حنيفة، وعندهما يكره لهما أن هذه إجارة على المعصية؛ لأن حمل الخمر معصية لكونه إعانة على المعصية، وقد قال الله عز وجل {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان}  ولهذا لعن الله تعالى عشرة: منهم حاملها والمحمول إليه … وبه نقول: إن ذلك معصية، ويكره أكل أجرته."

(فصل فی انواع شرائط رکن الإجارۃ،ج :4،ص:190   ط:سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100607
تاریخ19-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں