بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا مہر کم کرنے کا مطالبہ کرنا

سوال

نکاح کے وقت مہر زیادہ ہو اور  رخصتی کے وقت دولہا کہے کہ مہر زیادہ ہے کم کرو تو کرسکتے ہیں ؟

جواب

 مہر بیوی کا شرعی حق ہے، نکاح کے وقت مہر طے ہوجانے کے بعد بیوی اگر اپنی خوشی سے مہر میں کمی کرنا چاہے تو  کرسکتی ہے اور چاہے تو پورا مہر معاف بھی کرسکتی ہے، لیکن  اگر بیوی راضی نہ ہو تو  ایک مرتبہ مہر طے ہوجانے کے بعد مرد کے لیے بیوی سے مہر کم کروانے یا معاف کروانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، شوہر پر طے شدہ مہر ہی دینا لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإن حطت عن مهرها صح الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح ."

(کتاب النکاح،الباب السابع في المهر،الفصل السابع في الزيادة في المهر والحط عنه فيما يزيد وينقص،1/ 313،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100582
تاریخ19-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں