بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاقی کہنے کاحکم

سوال

ایک شخص نے کہا اگر میں نے یہ کام کیا تو میں طلاقی ہوں گا، اور پھر وہ کام کر بھی لے تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں یہ کہنا کہ میں  نے اگر یہ کا م کیا تو میں  طلاقی ہوں گا ، تو طلاقی  کہنےسے بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(أما تفسيره) شرعًا فهو رفع قيد النكاح حالًا أو مآلًا بلفظ مخصوص، كذا في البحر الرائق. (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:348، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100512
تاریخ18-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں