بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تجھے دہلی سے بمبئی تک طلاق کہنے کا حکم

سوال

خالد نے اپنی بیوی سے کہا " تجھے دہلی سے بمبئی تک طلاق" تو اس سے کونسی  طلاق واقع ہو گی؟

جواب

مذكورہ الفاظ  " تجھے دہلی سے بمبئی تک طلاق"سے ایک طلاق ِ رجعی واقع ہوگئی ہے،شوہر کو عدت کے اندر اندر رجوع کرنے کا حق ہے، اگر پہلے دو طلاقیں نہیں دیں۔

"الأصل لمحمد بن الحسن" میں ہے:

"وإذا قال: ‌أنت ‌طالق ‌إلى ‌البصرة أو إلى واسط أو إلى الصين، فهي واحدة بملك الرجعة؛ لأنه لم يصفها بعظم ولا كبير. وكذلك إذا قال لها: أنت طالق إلى الليل أو إلى سنة، فهي واحدة بملك الرجعة".

(كتاب الطلاق، باب الطلاق لغير السنة، ج:4، ص:497، ط: دار بن حزم)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"ولو قال "انت طالق من هنا الي الشام" فهي واحدة رجعية."

(كتاب الطلاق، فصل في ايقاع الطلاق، ج:4، ص: 439، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100477
تاریخ17-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں