بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر پر سورۃ الملک پڑھنے کا حکم

سوال

کیا قبر پر سورة تبارک پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ایصال ثواب کے لیے پورا قرآن یا کوئی بھی سورت پڑھی جاسکتی ہے،مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے سورتیں مخصوص نہیں ہیں،قرآن کریم کا کوئی بھی حصہ بلا تخصیص  ایصال ثواب کے لیےپڑھا جاسکتاہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ويقرأ يس) لما ورد«من دخل المقابر فقرأ سورة يس خفف الله عنهم يومئذ، وكان له بعدد من فيها حسنات» بحر. وفي شرح اللباب ويقرأ من القرآن ما تيسر له من الفاتحة وأول البقرة إلى المفلحون وآية الكرسي - وآمن الرسول - وسورة يس وتبارك الملك وسورة التكاثر والإخلاص اثني عشر مرة أو إحدى عشر أو سبعا أو ثلاثا، ثم يقول: اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلى فلان أو إليهم. اهـ. مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له."

(کتاب الصلوۃ،باب صلوۃ الجنازۃ جلد 2 ص: 242,243 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100438
تاریخ17-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں