بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ھود علیہ السلام کو قوم عاد کا بھائی کیوں کہا گیا؟ نبی علیہ السلام کو اپنی قوم کی طرف مبعوث کرنے میں کیا حکمتیں ہیں؟

سوال

ھود علیہ السلام کو قوم عاد کا بھائی کیوں کہا گیا؟ اس میں کیا حکمت تھی؟

جواب

بھائی سے نسبی بھائی مراد ہے، یعنی وہ اپنی قوم میں سے ہی ایک فرد تھے،حقيقی بھائی مراد نہیں ،اللہ تعالی نے  مختلف قوموں کی طرف جو انبیاء مبعوث فرمائے وہ عموماً  انہیں میں سے  ہوتے تھے، اس میں ایک حکمت یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کی زبان و بیان سے واقف ہوتے ، بات سمجھانے میں اور فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی میں  آسانی ہوتی،اس میں دوسری حکمت یہ تھی  جب  کسی قوم میں سے  کسی برگزیدہ شخصیت کو اللہ تعالی منصب نبوت پر فائز کرتے تو چوں کہ   نبی کا رہن سہن اسی قوم میں ہوتا اوروہ نبی کی اعلی سیرت  اور کریمانہ اخلاق سے واقف ہوتے، اور انبیاءعلیہم السلام  کے شریفانہ کردار کی وجہ  سےلوگوں میں  اُن کی وجاہت اور  ان کی بات کا اثر ہوتا تھا جس کی وجہ سے کسی کو   ان کے کردار پر انگلی اٹھانے کی جسارت نہ ہوتی، اور اُن کی بات کو قبول کرنا آسان ہوتا،الله تعالی كے كاموں ميں اس کے علاوہ اور بھی بہت سی  حکمتیں ہوسکتی ہیں،جن  کے احاطے سے انسانی عقل قاصر ہے۔

 روح المعاني میں ہے:

"قال لهم: أخوهم نوح أي نسبیهم كما يقال: يا أخا العرب ويا أخا تميم، وعلى ذلك قوله:

لا يسألون أخاهم حين يندبهم … في النائبات على ما قال برهانا

والضمير لقوم نوح، وقيل: هو للمرسلين والأخوة المجانسة وهو خلاف الظاهر."

(سورة الشعراء،الآية : 106،ج:10،ص:104،ط:العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100369
تاریخ17-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں