بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اسٹوڈنٹ کسی کو دےکر اس سے پیسے لینے کا حکم

سوال

آن لائن  اسٹوڈنٹ کسی کو دےکر اس سے پیسے لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پڑھانے کے لیے کسی کو اپنا شاگرد دینا اپنے پڑھانے کا محض دوسرے کوحق دینا ہے،اوریہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا خارج میں کوئی وجود ہو اور اس کی قیمت لگائی جائے،لہذا کسی کو اپنا  اسٹوڈنٹ، شاگرد دینےکےبدلےپیسے لیناجائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف۔۔۔.

مطلب: لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا."

(كتاب البيوع، ج: 4،ص: 518، ط:  سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100323
تاریخ17-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں