بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گورنمنٹ اسکیموں کے تحت گاڑی یا لون لینا کیسا ہے؟

سوال

گورنمنٹ اسکیموں کے تحت گاڑی یا لون لینا کیسا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں گورنمنٹ یاکسی بھی ادارے کے  ایسے کسی بھی اسکیم کے تحت گاڑی یاقرضہ لینا جس میں یہ شرط ہو کہ واپسی مارک اَپ کے ساتھ ہوگی،ایسا معاملہ یا قرضہ ، سودی معاملہ ہے، اور سود کا لینا، دینا ناجائز اورحرام ہے۔ لہذا مذکورہ اسکیم کے تحت گاڑی یاقرضہ لینانا جائز اورحرام ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"«وفي الأشباه: ‌كلّ ‌قرض جرّ نفعًا»

(قوله: ‌كلّ ‌قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر و عن الخلاصة، و في الذخيرة: و إن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلى قول الكرخي: لابأس به و يأتي تمامه."

(کتاب البیوع باب المرابحہ ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۶۶،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100304
تاریخ17-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں