بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

درود شریف: اَللَّهُمّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَعِتْرَتِهِ بِعَدَدِ كُلِّ مَعْلُوْمٍ لَّكَ

سوال

"اَللَّهُمّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَعِتْرَتِهِ بِعَدَدِ كُلِّ مَعْلُوْمٍ لَّكَ".

مذکورہ درود شریف کی تحقیق مطلوب ہے۔ بہت سے لوگ اس کو ’’درود ِقادریہ‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور کچھ لوگ’’ درود ِاویسیہ‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، کیا یہ درود، درست ہے؟ اور اس کی نسبت’’ اویسیہ ‘‘یا’’ قادریہ سلسلہ ‘‘کی طرف کرنا درست ہے یا نہیں؟ کیا حدیث شریف میں اس طرح کا درود پاک موجود ہے؟

جواب

سوال میں آپ نے درود شریف کے الفاظ:"اَللَّهُمّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَعِتْرَتِهِ بِعَدَدِ كُلِّ مَعْلُوْمٍ لَّكَ" ذکر کرکے ان کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ دود شریف،  حدیث کی کتابوں میں تو مذکور نہیں ہے، البتہ  اس کے  الفاظ اور معنی و مفہوم درست ہے،اس لیے  اس   کے پڑھنے  میں کوئی حرج نہیں ہے۔ باقی اسے ’’درودِ اُویسیہ‘‘یا’’درودِ قادریہ‘‘ سے موسوم کرنےکی کوئی معتبر وجہ ہمیں کافی تلاش کے باوجود نہیں مل سکی۔فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100234
تاریخ16-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں