بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اقالہ کی فضلیت

سوال

بچا ہو ا مال واپس لینے کے انعامات کے بارے میں حدیث کو ن کو ن سی ہیں ؟

جواب

بچا  ہوا  مال  واپس لینے سے کیا  مراد ہے  اس کی وضاحت نہیں ہے،البتہ اگر اس سے سائل کی مراد یہ ہو کہ     ایک سودا پورا ہو چکا اور اب کسی بھی وجہ سے خریدار(مشتری) اس معاملہ کو مکمل مبیع میں  ختم کرنا چاہتا ہے یا بعض مبیع میں ختم کرنا چاہتا ہے اور دوسرا فریق(بائع) اس کی رعایت کرتے ہوئے اس پر راضی ہوجاتا ہے تو  اسے اقالہ کہتےہیں اس پر حدیث میں فضیلت ہے کہ جو کسی مسلمان کی رعایت کرتے ہوئے اپنا سودا ختم کرتا ہے تو اللہ اس کی کوتاہیوں کو قیامت کے دن ختم کردیں گے۔

سنن ابن ماجه میں ہے :

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلمًا، أقاله الله عثرته يوم القيامة»".

 (كتاب التجارات، باب الاقاله،2 / 741،ط:دار إحياء الكتب العربية)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506100111
تاریخ14-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں