بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو سیر کرانا سنت ہے؟

سوال

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بیوی کو سیر کروانا سنت ہے ۔ کیا یہ درست ہے ؟

جواب

پردے کے اہتمام اور دیگر شرعی حدود وقیود (مردوں سے اختلاط نہ ہو، تصاویر اور گانا بجا نانہ ہووغیرہ  )کی رعایت کے ساتھ   شادی کے بعد بیوی کو جائز تفریح کے لیے  لے جانا  جائز  ہے۔البتہ شریعت نے اس وقت کی تحدید نہیں کی اور نہ ہی اسے لازم قرار دیا ہے ۔نیزسیر کروانے کو سنت کہنادرست نہیں ۔

قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث  میں ہے:

"تنبيه: ذكرنا أن السنة لغة: الطريقة؛ والمراد بها في اصطلاح الشارع وأهل عصره، ما دل عليه دليل من قوله صلى الله عليه وسلم أو فعله، أو تقريره؛ ولهذا جعلت السنة مقابلة للقرآن، وبهذا الاعتبار تطلق على الواجب، كما تطلق على المندوب وأما ما اصطلح عليه الفقهاء وأهل الأصول من أنها خلاف الواجب فهو اصطلاح حادث، وعرف متجدد."

(ص:146،ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505102053
تاریخ13-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں