بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تہجد کی نماز میں کم از کم کتنی رکعت پڑھنی چاہییں؟

سوال

تہجد کی نماز میں کم از کم کتنی رکعت پڑھنی چاہییں؟

جواب

 اکثر وبیشتر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد کی نماز آٹھ رکعات تھیں، اسی وجہ سے   تہجد  میں آٹھ  رکعات پڑھنا افضل ہے، تاہم اگر کوئی شخص محض دو   یا چاررکعات تہجد ادا کرتا ہے تو یہ بھی درست ہے  اور  ایسا شخص تہجد پڑھنے  والا شمار ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وأقلها على ما في الجوهرة ثمان) قيد بقوله على ما في الجوهرة لأنه في الحاوي القدسي قال: يصلي ما سهل عليه ولو ركعتين والسنة فيها ثماني ركعات بأربع تسليمات اهـ."

(کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، مطلب في صلاة اللیل،2/ 25، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505102046
تاریخ13-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں