بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غضنفر نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا اللہ غزنفر نام رکھنا درست ہے؟

جواب

غزنفر کا درست تلفظ "ض" کے ساتھ"غضنفر"ہے،اور"غضنفر" کا معنی عربی زبان میں "شیر" ہے، اور   یہ شجاع اور   بہادرانسان کے لئے استعمال ہوتاہے ،لہذا اللہ غضنفر کی بجائے صرف غضنفریا غضنفر    اللہ نام رکھنادرست ہے،  تا ہم لڑکوں کا نام انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کہ لڑکیوں کے نام  ازواجِ مطہرات و دیگر صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے منتخب کرنا زیادہ بہتر ہے۔(القاموس الوحید ، ص :1171، ط :ادارہ اسلامیات لاہور)

فتح الباری میں ہے:

"قوله: ( ولا يقل أحدكم عبدي أمتي ) : زاد المصنف في الأدب المفرد ومسلم من طريق العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة: كلكم عبيد الله وكل نسائكم إماء الله. ونحو ما قدمته من رواية ابن سيرين، فأرشد صلى الله عليه وسلم إلى العلة في ذلك لأن حقيقة العبودية إنما يستحقها الله تعالى، ولأن فيها تعظيما لا يليق بالمخلوق استعماله لنفسه."

(باب كراهية التطاول على الرقيق، ج:5، ص:180، ط: دار المعرفة)

تاج العروس میں ہے:

"‌‌الغضنفر: الأسد. ورجل ‌غضنفر: غيظ الجثة."

(غضفر، ج:2، ص:770، ط: دار العلم للملايين)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144505101936
تاریخ12-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں