بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک ہی آیتِ سجدہ سننے کے بعد اسی مجلس میں پڑھ لے تو ایک سجدہ لازم ہوگا یا دو؟

سوال

اگر کوئی پہلے آیت سجدہ سنے، اور پھر اسی آیت سجدہ کو اسی مجلس میں پڑھے، تو سجدہ تلاوت دو کرنے ہوں گے یا ایک ہی سے کام چل جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہی آیتِ سجدہ پہلے سن لے، اور پھر اسی آیتِ سجدہ کو اسی مجلس میں پڑھ لے، تو اس پر صرف ایک ہی سجدہ تلاوت کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والأصل أن مبناها على التداخل دفعا للحرج بشرط اتحاد الآية والمجلس.

(قوله بشرط اتحاد الآية والمجلس) أي بأن يكون المكرر آية واحدة في مجلس واحد، فلو تلا آيتين في مجلس واحد أو آية واحدة في مجلسين فلا تداخل ولم يشترط اتحاد السماع لأنه إنما يكون باتحاد المسموع فيغني عنه اشتراط اتحاد الآية، وأشار إلى أنه متى اتحدت الآية والمجلس لا يتكرر الوجوب وإن اجتمع التلاوة والسماع ولو من جماعة ففي البدائع لا يتكرر، ولو اجتمع سببا الوجوب وهما التلاوة والسماع بأن تلاها ثم سمعها أو بالعكس أو تكرر أحدهما. اهـ. وفي البزازية: سمعها من آخر ومن آخر أيضا وقرأها كفت سجدة واحدة في الأصح لاتحاد الآية والمكان اهـ ونحوه في الخانية، فعلى هذا لو قرأها جماعة وسمعها بعضهم من بعض كفتهم واحدة."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب سجود التلاوة، ج: 2، ص: 115،114، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505101907
تاریخ12-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں