بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سردی کے موسم میں دنبہ کے بال کاٹنے کا حکم

سوال

کیا سردیوں میں دنبہ کے بال کاٹنے چاہیے؟

جواب

سردی کے موسم میں دنبہ کے بال کاٹنے سے دنبہ کو تکلیف (ٹھنڈ کی وجہ سے بیماری)پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے، اور جانور کو تکلیف پہنچانے سے احادیثِ مبارکہ میں ممانعت آئی ہے، لہٰذا سردی کی کے موسم میں دنبے کے بال نہ کاٹے جائیں۔

التمہید لما فی الموطأمن المعانی والاسانید میں ہے:

"وأجمع العلماء على أن جز الصوف عن الشاة وهي حية حلال."

(تابع لحرف الميم، تابع لمحمد بن شهاب الزهري، الحديث الخامس، ج:٩، ص:٥٢، ط:وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية)

حدیث شریف میں ہے:

"وعن ابن عمر وأبي هريرة قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌عذبت ‌امرأة في هرة أمسكتها حتى ماتت من الجوع فلم تكن تطعمها ولا ترسلها فتأكل من خشاش الأرض»."

(مشكاة المصابيح، كتاب الزكاة، باب فضل الصدقة، ج:١، ص:٥٩٥ ط: المكتب الإسلامي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505101789
تاریخ10-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں