بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کنٹینٹ رائٹنگ کا حکم

سوال

کیا کنٹینٹ رائٹنگ جائز ہے؟

جواب

کنٹینٹ رائٹنگ یعنی کسی کو کسی خاص موضوع پر کچھ مواد لکھ کردینا  اوراس پر اجرت لینا جائز ہے بشرطیکہ کسی جائز مقصد کے لیے ہو اور جو مضمون لکھ کر دیا جارہا ہے وہ بھی شریعت سے متصادم نہ ہو مثلا کسی تاجر کو اس کے مال تجارت کے متعلق کچھ مواد لکھ کردینا جس کے ذریعہ وہ اپنے اموال کی تشہیر کرے  وغیرہ ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا. ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا قبلها لم يصح. ومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادا استيفاؤها بعقد الإجارة."

(کتاب الاجارہ، باب اول، ج نمبر ۴، ص نمبر ۴۱۱، دار الفکر)

محیط برہانی میں ہے:

"نوع منه في الاستئجار على الأفعال المباحة

نحو تعليم الصناعة والتجارة والهدم والبناء والحفر وأشباه ذلك."

(کتاب الاجارات،فصل خامس عشر، ج نمبر۷، ص نمبر ۴۸۴، دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505101711
تاریخ09-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں