بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرے کے طواف میں استلام کرنا بھول گئے

سوال

عمرے کے طواف میں اگر کسی چکر میں استلام کرنا بھول جائیں تو کیا کریں؟

جواب

حجر اسو د کا استلام  کرنا  سنت ہے،واجب  نہیں ،اگر طواف میں سہواً   رہ گیا  تو طواف ادا ہوگیا،  بعد میں اس کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم يبدأ بالحجر.......ويستلمه، وصفة الاستلام أن يضع كفيه على الحجر ويقبله يفعل ذلك إن أمكنه من غير أن يؤذي أحدا........وإلا مس الحجر بيده وقبل يده، وإن لم يستطع ذلك أمس الحجر شيئا في يده من عرجون وغيره ثم قبل ذلك الشيء كذا في الكافي فإن لم يستطع شيئا من ذلك يستقبله ويرفع يديه مستقبلا بباطنهما إياه ويكبر ويهلل ويحمد ويصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم - كذا في فتح القدير وهذا الاستقبال مستحب وليس بواجب كذا في السراج الوهاج.

وترك الاستلام فيما بين ذلك أجزأه، وإذا ترك رأسا فقد أساء كذا في شرح الطحاوي."

(کتاب المناسک،ج1،ص225،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505101471
تاریخ06-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں