بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنان/ رومان نام کامعنی

سوال

میں اپنے دو بیٹوں کانام سنان اور رومان رکھنا چاہتاہوں، یہ نام میں نے آپ کے ویب سائٹ پر صحابہ کے ناموں کی فہرست میں دیکھے تھے، برائے کرام راہنمائی فرمائیں کہ میں یہ نام رکھ سکتاہوں، اور ان کے معنی بھی بتادیں۔

جواب

رومان اور سنان دونوں صحابہ کے نام ہیں،اور  اصولاً صحابہ کے ناموں میں معنی دیکھنے کی ضرورت نہیں؛لہذا سائلہ کے لیے اپنے بیٹوں کا یہ نام رکھنا درست اور بہتر ہے۔

الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ میں ہے:

"رومان، سكن الشام : روى عن النبيّ صلّى اللَّه عليه وآله وسلّم، حكاه أبو القاسم البغويّ، عن البخاريّ، ولم يذكر حديثه وأظنه رومان بن بعجة، بن زيد بن عميرة الجذاميّ."

(حرف الراء، ٤١٥/٢، ط:دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضاً:

"سنان بن مقرّن المزني : أحد الإخوة. قال ابن سعد: له صحبة. وذكره أبو حاتم وابن شاهين وغير واحد في الصّحابة. وقال ابن مندة: له ذكر في المغازي."

(حرف السين بعد هاالنون، ١٥٩/٣، ط:دار الكتب العلمية)

تہذیب اللغۃ میں ہے:

"والسِّنان: الِاسْم من سَنَّ يَسُنُّ، وَهُوَ القوّة."

(باب السين والنون، ٢١٣/١٢، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144505101371
تاریخ05-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں