بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تاریخ پیدائش کے اعتبار سے نام رکھنے کا حکم

سوال

تاریخ پیدائش، یکم دسمبر 2023ءجمعہ کا دن ، اسلامی نام بتادیں۔

جواب

 واضح رہے  کہ شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کو اپنے بچوں کے اچھے نام رکھنے کا حکم دیا اور اس کو والدین پر اولاد کا حق قرار دیا ، اور جن ناموں کے معنی اچھے نہیں ہیں ان کو رکھنے سے منع کیا، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے لوگوں کے ایسے نام جن کے معنی اچھے نہیں ہوتے ان کو تبدیل کرکے اچھے معنی والے نام رکھ  دیے۔  نام کے اچھا اور بامعنی ہونے کا انسان کی شخصیت پر  اثر پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اچھے نام رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن تاریخ پیدائش یا وقتِ پیدائش کے  اعتبار سے نام  رکھنے کا تصور  درست  نہیں  ہے، اور اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے،لہذا اس کا اہتمام و التزام کے بجائے اجتناب کرنا چاہیے،  نام رکھنے کا ادب یہ ہے کہ اس میں نیک لوگوں کی نسبت ملحوظ ہو، مثلًا انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو، یا وہ اچھا بامعنی لفظ ہو؛ لہذا  بچی  کا نام ایسا رکھنا  چاہیے جو  صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک مسلمان خواتین کے ناموں میں سے کوئی نام ہو، یا ایسا نام ہو جو معنی کے اعتبار سے اچھا ہو۔

بچوں کے اسلامی  کے حوالہ سے آپ منسلکہ لنک کے ذریعہ استفادہ کرسکتے ہیں۔

بچوں کے اسلامی نام

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تُدْعَوْنَ ‌يَوْمَ ‌الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَأَحْسِنُوا أسمائكم. رواه أحمد وأبو داود."

(‌‌كتاب الآداب، باب الأسامي جلد ۳ ص:۱۳۴۷ ط: المکتب الاسلامي)

ترجمہ:"حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ کے نام سے پکارا جائے گا، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔ (یعنی والدین اولاد کے نام اچھے رکھیں)۔"

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144505101260
تاریخ04-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں