بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ اولاد کو ہدیہ کرنا اور زکاۃ کا حکم

سوال

زید کے 3 چھوٹے بچے ہیں ،تو کیا وہ نابالغ اولاد کی نیت کرکے ان کے لیے پلاٹ جائیداد یا سونا لے کر خرید کر رکھ سکتا ہے ؟آیا اس صورت میں اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں ؟

جواب

اگر بچہ  نابالغ ہے اور والدیابچے کے ولی(سرپرست)بچے کے لیے   سونا یا جائیداد خرید کربچے کے سمجھدار ہونے کی صوت میں اس کی ملکیت میں دے دیتے ہیں ، یا ان کے لیے خرید کر اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے ، اور وہ سونا یا جائیداد بچے کی ملکیت شمار ہوگی اور جب تک وہ بچہ نابالغ ہے اس مال پر زکاۃ لازم نہیں۔

البتہ بچے کی ملکیت ہوجانے کے بعد والدین کے لیے اس جائیداد یا سونے کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اور اگر والد کا مقصود جائیداد یا سونا بچوں کی ملکیت میں دینا نہ ہو محض زکاۃ سے بچنے کے لیے اس طرح کررہے ہوں تو یہ عمل ناجائز ہوگا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

" الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، وإن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، ووليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثم وصي وصيه ثم القاضي ومن نصبه القاضي، سواء كان الصغير في عيال واحد منهم أو لم يكن، كذا في شرح الطحاوي" .

(4/392، الباب السادس فی الھبۃ للصغیر، ط؛ رشیدیہ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وشرط افتراضها عقل وبلوغ....(قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي ‌لأنها ‌عبادة ‌محضة وليسا مخاطبين بها."

(‌‌كتاب الزكاة، ج:2، ص:258، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم  

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505101202
تاریخ04-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں