بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قبر پر دعاء کرکے پیسے لیےسکتے ہیں؟

سوال

کیا قبر پر دعاء کرکے پیسے لیےسکتے ہیں؟

جواب

 دنیاوی حوائج کے لیے دعا کرنے کے بدلہ اجرت لینا جائز ہے اور دینی حاجت  یا ایصالِ ثواب کے لیے دعا کرنے پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، لہٰذا مردہ مسلمان  کے لیے تو مغفرت یا جنت اور رفع درجات وغیرہ ہی کی دعا کی جاسکتی ہے جو کہ دینی اور اخروی حاجات ہیں، البتہ زندہ آدمی کے لیے دونوں طرح کی دعائیں کی جاسکتی ہیں؛ سو  اگر زندہ آدمی کے لیے دنیاوی امور ( مثلاً کاروبار میں برکت، شادی، اولاد وغیرہ کی) دعا کی جائے تو اس پر اجرت لینا جائز ہوگا، لیکن  ایصالِ ثواب کے لیے دعا کرنے کی اجرت لینا جائز نہیں ہوگا۔

(ملفوظات حکیم الامت، ج:۲۶، ص: ۳۷۵، ط:ادارہ تالیفات اشرفیہ )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100966
تاریخ30-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں