بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نا قابل استعمال کپڑوں کو صفائی کے لیے استعمال کرنا

سوال

پہننے کے کپڑے جب قابلِ استعمال نہ رہیں انہیں جھاڑو کے طور پر صفائی کے لیے استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

پہننے کے کپڑے جب پرانے ہوجائیں اور قابلِ استعمال ہوں تو کسی غریب کو استعمال کے لیے دیئے جاسکتے ہیں، اگر وہ قابلِ استعمال نہ ہوں تو انہیں صفائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

شرح الزرقاني على المواهب اللدنية  (الزرقاني) میں ہے:

"أن أبا بكر ‌دخل ‌الغار قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم ليقيه بنفسه، وإنه رأى جحرا" بضم الجيم وإسكان المهملة، "فيه فألقمه عقبه" بعد أن سد غيره بثوبه، فيروي أنه قال: والذي بعثك بالحق لا تدخله حتى أدخله قبلك، فإن كان فيه شيء نزل بي قبلك فدخله فجعل يلتمس بيده فكلما رأى جحرا قطع من ثوبه وألقمه الجحر حتى فعل ذلك بثوبه أجمع فبقي جحر فوضع عقبه عليه".

(‌‌باب هجرة المصطفى وأصحابه إلى المدينة، ج:2، ص:121، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100953
تاریخ30-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں