بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر میت کا رخ قبلہ کی جانب نہ ہو تو نماز جنازہ ادا ہوجائے گی

سوال

 نمازِ جنازہ میں میت کا سر اگر غلطی سے  قبلہ کی طرف نہ ہوتو نماز جنازہ ادا ہو جائے گی؟

جواب

 امام کے سامنے جنازہ رکھنے میں سنت یہ ہے کہ  میت کا سر امام کے دائیں جانب ہو اور پاؤں بائیں جانب ہوں،  اس کے خلاف کرنا بُرا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرغلطی سے  میت کا رخ  مسنون وضع کے مطابق نہ ہو اور نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہو تو   نماز جنازہ ادا ہوجائے گی۔

نمازِ جنازہ پڑھتے ہوئے میت کا سر قبلے کی طرف نہیں ہوتا، بلکہ ہمارے ملک میں شمال کی جانب ہوتا ہے اور پاؤں جنوب کی جانب۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وصحت لو وضعوا الرأس موضع الرجلين وأساءوا إن تعمدوا، ولو أخطئوا القبلة صحت إن تحروا وإلا لا مفتاح السعادة

(قوله وصحت لو وضعوا إلخ) كذا في البدائع، وفسره في شرح المنية معزيا للتتارخانية بأن وضعوا رأسه مما يلي يسار الإمام اهـ فأفاد أن السنة وضع رأسه مما يلي يمين الإمام كما هو المعروف الآن، ولهذا علل في البدائع للإساءة بقوله لتغييرهم السنة المتوارثة، ويوافقه قول الحاوي القدسي: يوضع رأسه مما يلي المستقبل، فما في حاشية الرحمتي من خلاف هذا فيه نظر فراجعه."

(‌‌باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:209، ط:دار الفكر - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100952
تاریخ30-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں