بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوکان میں ملازم کا اپنے استعمال کے لیے چیز لینے کے بارے میں شرعی حکم

سوال

دوکان میں ملازم کا اپنے استعمال کے لیے  چیز لینے کا اصول بتا دیجئے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں ملازم کے لیے  جن چیزوں کی مالک کی طرف سے صراحتاً اجازت ہوتو ان چیزوں کا  لینا  جائز ہے، اگر اجازت نہ ہو،تو پھر   لینا جائز  نہیں  ہے۔باقی سائل کوئی خاص صورت معلوم کرنا چاہتا ہے تو اسے وضاحت کے ساتھ لکھ کر ارسال کردے۔

’’شرح المجلۃ‘‘ میں ہے:

"لایجوز لأحد أن یتصرف في ملك غیره بلا إذنه أو وکالة منه أو ولایة علیه، وإن فعل کان ضامنًا."

(شرح المجلة، ج:1، ص:41، مادة: 96، دار الکتب العلمیة، بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100949
تاریخ30-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں