بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد زائم داؤد نام رکھنا

سوال

محمد زائم داؤد نام رکھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

"محمد"  ِیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی ہے،اور "زائم  " کا معنی ہے ؛ کسی چیز پر مرنے والا ، بڑبڑاتے ہوئے غصے سے دیکھنے والا،اور"داؤد " یہ اللہ کے مشہور نبی اور رسول علیہ السلام کا نام ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں بہتر تو یہ ہے کہ صرف" محمد" ہی نام رکھا جائے ، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی اَعلی ، اَرفع اور ممتاز ، اور بابرکت ہےیا صرف "داؤد "نام رکھا جائے یہ بھی بابرکت اور نبی و رسول علیہ السلام کا نام ہے  ، البتہ "زائم" چونکہ عمدہ معنیٰ نہیں رکھتا، لہٰذا یہ نام نہ رکھا جائے،یا محمد داؤد رکھا جائے، نیز  انبیاء علیھم ا لصلواۃ والسلام  اورصالحین  کےنام پرنام رکھنازیادہ بہتر  ہے  ۔

صحیح البخاری میں ہے :

"سمّوا بإسمي، ولا تكنوا بكنيتي".

(كتاب البيوع ، باب ما ذكر في الأسواق ج: 3 ص: 66 ط: دار طوق النجاة)

القاموس الوحید میں ہے:

"زَامَ ، زوماً:مرنا ، بڑبڑاتے ہوئے غصے سے دیکھنا ".

(باب الزاء ص: 728 ط: ادارۂ اسلامیات)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144505100939
تاریخ30-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں