بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کا جسم ختم ہوچکا ہو تو نماز جنازہ کا حکم

سوال

 میرا سوال یہ ہے کہ ایک میت کافی دن تلاش کے بعد جنگل سے ملی، جس کے جسم کا کافی حصہ ختم ہو چکا تھا تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھ  سکتے ہیں؟ کس کس صورت میں نماز جنازہ پڑھائی جاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر لاش کا اکثر حصہ باقی ہو تو اس کو غسل  دے کر نمازِ  جنازہ پڑھی جائے اور اگر اکثر حصہ  ختم ہوگیا ہو اور کم حصہ باقی ہو تو غسل اور نمازِ جنازہ، دونوں لازم نہیں ہیں۔

در مختار میں ہے :

"(وجد رأس آدمي) أو أحد شقيه (لا يغسل ولا يصلى عليه) بل يدفن إلا أن يوجد أكثر من نصفه ولو بلا رأس."

( فتاوی شامی ،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2،ص:199،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100817
تاریخ29-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں