بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار رکعت والی نماز کے آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کی مسنونیت

سوال

چار رکعت والی نماز کے آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے مسنون ہونے کو احادیث کی روشنی میں بیان کردیجیے۔ 

جواب

چار رکعت والی نماز کی آخری دو رکعت میں سورہ فاتحہ  کی مسنون ہونے پر   متعدد روایات ہیں، صحیح مسلم  کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیے: 

"حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همام، وأبان بن يزيد، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم:  كان يقرأ في الركعتين الأوليين من الظهر والعصر بفاتحة الكتاب وسورة، ويسمعنا ‌الآية ‌أحيانا، ويقرأ في الركعتين الأخريين بفاتحة الكتاب".

ترجمہ:

" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں تلاوت سنابھی دیتے تھے، اور آخری دو رکعت میں  (صرف) سورہ فاتحہ پڑھتے تھے"۔

(صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج ، ط: دار الطباعة - تركيا، 1334ه، باب القراءة في الظهر والعصر، 37/2، 451)

فقط والله أعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100739
تاریخ28-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں