بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیٹ درد کی وجہ سے منی نکلنے سے غسل فرض ہونے کا حکم

سوال

پیٹ میں درد ہونے کی وجہ سے منی خارج ہوجائے،  تو کیا غسل واجب ہوجائے گا؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے منی نکلنے سے غسل واجب ہونے کی شرط یہ ہے کہ منی شہوت کے ساتھ اچھل کر نکلے، اگر شہوت  نہ ہو اور نہ ہی اچھل کر نکلے تو محض کسی بیماری کی وجہ سے منی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوگا۔

لہذااگرصورتِ مسئولہ میں بغیرشہوت کے محض بیماری (پیٹ درد)  کی وجہ   سےمنی خارج ہوجائےتواس سے غسل فرض نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو وإلا فلا يفرض اتفاقا؛ لأنه في حكم الباطن (منفصل عن مقره) هو صلب الرجل وترائب المرأة... (بشهوة) أي لذة...

(قوله: بشهوة) متعلق بقوله منفصل، احترز به عما لو انفصل بضرب أو حمل ثقيل على ظهره، فلا غسل".

(کتاب الطہارۃ، سنن الغسل، ج:1، ص:159، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100465
تاریخ26-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں