بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

و لایغوث ویعوق کو ولایغوث ولایعوق پڑھنے کی صورت میں نماز ہوگی یا نہیں؟

سوال

قرآن کریم  میں سور نوح کی آیت نمبر 23: "وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا" کو اگر نماز میں کوئی شخص  "ولا یغوث ولا یعوق "پڑھ لے تو نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اگر كسي  شخص نے نماز میں "وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ" کو  "و لا یغوث ولا یعوق " پڑھ ليا ،تو  معنی  میں تغیر فاحش پیدا نہیں ہوا،  لہذا  نماز صحیح  ہوگئی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو زاد كلمةً أو نقص كلمةًأو نقص حرفاً، أو قدمه أو بدله بآخر نحو من ثمره إذا أثمر واستحصد - تعالى جد ربنا - انفرجت بدل - انفجرت - إياب بدل - أواب - لم تفسد ما لم يتغير المعنى إلا ما يشق تمييزه كالضاد والظاء فأكثرهم لم يفسدها."

(کتاب الصلاۃ،باب یفسد الصلاۃومایکرہ632/1،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100449
تاریخ26-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں