بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انجیکشن کے ذریعہ اتارے گیے دودھ سے حرمت رضاعت کا ثبوت

سوال

 زید کے اولاد نہیں ہے، زید کی بیوی نے اپنی بہن کی بیٹی کو گود لیا ،زید کی بیوی نے انجکشن لگوایا جس سے اس کا دودھ اتر آیا،جس کو اس نے بچی کو مدت رضاعت میں پلایا تو کیا زید اس بچی کا رضائی باپ ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں مذکورہ خاتون کامدتِ رضاعت کے اندر  بچی کواپنا دودھ پلانا کہ جو ٹیکے کی وجہ سے اتر آیا تھا،شوہر  کی وجہ سے نہیں اترا ، ایسی صورت میں زید کی بیوی اس دودھ پلانے والی مذکورہ بچی کی رضاعی ماں بن گئی،  اور یہ بچی اس کی رضاعی بیٹی  کہلائی گی،لیکن مذکورہ خاتون کے شوہر (زید)کے لیے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی،اور یہ بچی بڑی ہونے یعنی بالغہ ہونے کے بعد زید کے حق میں غیر محرم ہوگی۔

فتح القدیر میں ہے:

"لأنه لو تزوج امرأة ولم تلد منه قط ونزل لها لبن وأرضعت ولدا لا يكون الزوج أبا للولد لأن نسبته إليه بسبب الولادة منه، وإذا انتفت انتفت النسبة فكان كلبن ‌البكر، ولهذا لو ولدت للزوج فنزل لها لبن فأرضعت به ثم جف لبنها ثم در فأرضعته صبية فإن لابن زوج المرضعة التزوج بهذه الصبية، ولو كان صبيا كان له التزوج بأولاد هذا الرجل من غير المرضعة بحر عن الخانية."

(كتاب الرضاع، ج:3 ص:221 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100313
تاریخ20-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں