بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مینڈک کھانے کا حکم

سوال

کیا مینڈک کھانا حرام ہے؟

جواب

حنفیہ کے ہاں سمندری مخلوقات میں سے صرف مچھلی کھانے کی اجازت ہے،مینڈک چوں کہ مچھلی کی قسم میں سے نہیں ہے، بلکہ خبائث میں سے ہے اور اللہ تعالی نے خبائث کو حرام کردیاہے، اس لیے مینڈک کا کھانا حلال نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وقوله عزّ شأنُه {ويُحرِّم عليهم الخبائث} والضُّفدعُ والسّرطانُ والحيّةُ ونحوُها مِن الخبائث، ورُوي عَن رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم - سُئل عَن ضُفدعٍ يُجعل شحمُه في الدواء فنهَى - عليه الصّلاة والسّلام - عَن قتل الضَّفادع، وذلك نهيٌ عَن أكلِه."

(كتاب الذبائح والصيود، ٥/ ٣٥، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144505100249
تاریخ16-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں