بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے قریب بلند آواز سے تلاوت کرنا

سوال

نمازی کے قریب بیٹھ کر قرآن پاک بآواز بلند تلاوت کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ مسجد میں نماز اور دیگر عبادات کی ادائیگی کے وقت آواز ہلکی رکھنی چاہیے کہ بس پڑھنے والا خود سن لے، اتنے زور سے تلاوت، تسبیحات اور ذکر کرنا کہ نمازیوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہو مکروہ ہے، ایسے عمل سے احتراز لازم ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  نمازی کے قریب بیٹھ کر بلند آواز سے تلاوت کرنا جس کی وجہ سے ا  س کی نماز میں خلل آتا ہو مکروہ ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ إلخ."

( کتاب الصلاة ، باب مايفسد الصلاة و مايكره فيها ، مطلب في رفع الصوت بالذكر ج: 1 ص: 660 ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100230
تاریخ15-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں