بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا زیرناف بال بلیڈ یا استرے سے صاف کرنے کا حکم

سوال

 کیا عورت اپنے زیرناف بال بلیڈ یا استرے سے صاف کر سکتی ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں عورت کے لیے زیرِ ناف بالوں کا اکھاڑنا  مسنون ہے، لیکن اگر عورت کو زیر ناف  بال اکھاڑنے میں تکلیف ہو، تو اس کے لیے بلیڈ یا استرہ استعمال کرنے سے بہتر کریم، پاوٴڈر  وغیرہ  سے بال صاف کرنا ہے۔اور بلیڈ کا استعمال بھی جائز ہے۔البتہ نفسِ سنت مطلقاً بال صاف کرنے سے حاصل ہوجائے گی، چاہے کسی بھی طرح بال صاف کیے جائیں،البتہ کریم وغیرہ میں کٹنے یا زخم ہونے کا خطرہ نہیں ہے اور بلیڈ یا استرے میں کٹنے کا احتمال ہے ، اس لیے کریم وغیرہ بہتر ہےاور بلیڈ اور استرہ جائز ہے۔

حاشیة الطحطاوي علی المراقي میں ہے:

"السنة في حلق العانة أن یکون بالموسی؛ لأنه یقوي، وأصل السنة یتأدی بکل مزیل؛ لحصول المقصود وهو النظافة، وقال النووي: الأولی في حقه الحلق، وفي حقها: النتف، والإبط أولی فیه النتف؛ لورود الخبر".

(حاشیة الطحطاوي علی المراقي، ص: ۵۲۷ط: دار الکتاب)

فتاوی شامی میں ہے:

"والسنة في عانة المرأة النتف، وقال قبیله عن الهندیة: ولو عالج بالنورة، یجوز."

(کتاب الحظر والإباحة، ج: ۶، صفح: ۴۰۶، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144505100127
تاریخ15-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں