بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ختم بخاری شریف کا شرعی حکم

سوال

کسی کے گھرمیں عالموں کو جمع کرکے ختم بخاری شریف کروانا کیسا ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ  کسی بھی  خیر کے تذکرے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے بالخصوص  پیغمبر ﷺ  اور  ان کی مبارک احادیث کے تذکرے کے بعد دعاکا مقبول ہونا  تجربات سے ثابت ہے، لہٰذا صورت ِ مسئولہ میں  کسی خاص مقصد کے لیے ضروری سمجھے بغیر محلے کے لوگوں کا علماء کو     بلاکر  بخاری شریف  کا  ختم کر انا جائز ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

"وأما المبتدع فهو صاحب البدعة وهي كما في المغرب اسم من ابتدع الأمر إذا ابتدأه وأحدثه كالرفقة من الارتفاق والخلفة من الاختلاف ثم غلبت على ما هو زيادة في الدين أو نقصان منه اهـ.

وعرفها الشمني بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال ‌بنوع ‌شبهة ‌واستحسان وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما ."

(ج:1، ص:370، ط: دارالکتاب الاسلامي)

  چناں چہ  فقیہِ النفس حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ   اس قسم کے ایک   سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

" قرونِ ثلاثہ میں  بخاری شریف  تالیف  نہیں  ہوئی تھی   مگر اس کا ختم درست ہے کہ ذکرِخیر کے بعد دعاقبول ہوتی ہے ، اس کا اصل شرع سے ثابت ہے ، بدعت نہیں ہے۔"

( تالفیاتِ رشیدیہ ، ص: 152، ط: ادارہ اسلامیات)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504102476
تاریخ11-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں