بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تیمم میں سر کا مسح نہیں ہے

سوال

تیمم میں سر کا مسح کرنے کا حکم؟

جواب

تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ پاکی کی نیت کرکے پہلے ایک بار دونوں ہاتھ  مٹی پر مار کر انہیں جھاڑ دے، پھر انہیں سارے منہ پر پھیردے، اسی طرح دوسری بار دونوں ہاتھوں کو مٹی پرمار کے انہیں  ہاتھوں پر کہنیوں تک  اس طرح مل لے کہ کوئی جگہ باقی نہ رہ جائے، اس سے پاکی حاصل ہوجائے گی۔لہذاتیمم میں سرکا مسح مشروع نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

‌"وكيفية ‌التيمم: أن يضرب يديه على الأرض يقبل بهما ويدبر ثم يرفعهما وينفض. كذا في التبيين بقدر ما يتناثر التراب. كذا في الهداية ويمسح بهما وجهه بحيث لا يبقى منه شيء ثم يضرب يديه على الأرض كذلك ويمسح بهما ذراعيه إلى المرفقين كذا في التبيين قال مشايخنا: ويمسح بأربع أصابع يده اليسرى ظاهر يده اليمنى من رءوس الأصابع إلى المرفقين ثم يمسح بكفه اليسرى باطن يده اليمنى إلى الرسغ ويمر باطن إبهامه اليسرى على ظاهر إبهامه اليمنى باليد اليسرى كذلك وهو الأحوط، كذا في محيط السرخسي وهكذا في البدائع."

(كتاب الطهارة، ج:١، ص:٣٠، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504102409
تاریخ09-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں