بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کٹے ہوئے بالوں اور ناخنوں کو کوڑادان میں پھینکنے کا حکم

سوال

بال سنوارتے وقت بال ٹوٹتے ہوں تو ان  کو سنبھالنا چاہیے یا  کوڑا دان میں پھینک دینا چاہیے؟اسی طرح ناخن وغیرہ کا کیا حکم ہے؟ان کو  کوڑا دان میں پھینک سکتے ہیں؟

جواب

کٹے ہوئے بال اور ناخن جزِ انسانی ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں،اس لیے بہتر ہے کہ انہیں دفن کردیا جائے،یا کسی پاک جگہ میں ڈال دیا جائے،کوڑا دان میں ڈالنے  میں ان کی بے احترامی ہے۔

لما فی "الفتاوى العالمكيرية":

"فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان.

يدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم كذا في الفتاوى العتابية".

(کتاب الکراهیة،باب الختان،ج:5،ص:358، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504102355
تاریخ08-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں