بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آصفیہ نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

اصفیہ یا آصفیہ نام میں صحیح کون سا ہے؟  نام کا مطلب بتا دیجیے!

جواب

اصفیہ کا معنی  تلاش کے باوجود  نہ مل سکا ،ہاں آصف عبرانی زبان کا مصدر ہے جس کے معنی جمع کرنا ،اکھٹا کرنا ،ضبط کرنے کے آتے ہیں ،اور یہ سلیمان علیہ السلام کے وزیر کا نام تھا ،مجازا ہر لائق وزیر کو بھی کہتے ہیں ،اور آصفیہ آصف کی طرف منسوب ہے ،پس  یہ معنی کے لحاظ سے درست ہے،اس لیے آصفیہ نام رکھنے میں مضائقہ نہیں ہے،البتہ ازواج  مطہرات اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھنا بہتر ہوگا۔آپ کے ذکر کردہ نام کے قریب تر نام صفیہ ہے ،اور یہ آپ صلی علیہ کی ازواج مطہرات میں سے بھی ہیں ،اس لیے اس نام کو اختیار کرنا زیادہ باعث برکت ہوگا۔

فرہنگ آصفی  میں ہے:

"آصف:عبرانی  ،اسم مذکر ،عبرانی زبان کا مصدر ہے جس کے معنی جمع کرنا ،اکھٹا کرنا ،ضبط کرنا آتے ہیں ،جیسے خوشبو کو جمع کرنا ،روپے یا مہمانوں کا جمع کرنا ،میوا اکھٹا کرنا ،مہمانوں کو اپنے پاس رکھنا وغیرہ۔"

(ص:90،ط:مطبع رفاہ پریس)

فیروز اللغات میں ہے :

"آصف:حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر کا مانا تھا ،مجازا ہر لائق وزیر ۔"

آصفیہ۔آصفی:آصف کی طرف منسوب۔"

(ص:23،ط:فیروز سنز)

المحیط البرهاني" میں ہے :

 "وفي «الفتاوى»: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لاتفعل".

(المحيط البرهاني في الفقه النعماني،ج:5،ص:382،ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144504102277
تاریخ07-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں