بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معاہدہ سے زیادہ رقم کی بل بناکر اضافی رقم وصول کرنے کا حکم

سوال

ہم کوئلہ کان کا کام کرتے ہیں اور مالک کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے،  اب مالک خود کان کے اندرگھستا نہیں جو بل ہم بناتے ہیں مزدور کےنام تو اس میں معاہدہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے،  یعنی مالک سےزیادہ پیسے لیتےہیں،  کام تھوڑا مشکل ہے،  اس لیے پیسے ان کی مرضی کےبغیر وصول کرتے ہیں،  راہ نمائی فرمائیں کیا یہ حرام ہے یا حلال؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کا مزدوروں کے ذریعے کان سے کوئلہ نکالنے پر جتنی اجرت مقرر ہے، مالک سے اتنی ہی اجرت لینا جائز ہے، اس سے زیادہ اجرتی بل بناکرزائد رقم لینا مالک کو دھوکہ کی بناء پر جائز نہیں ہے، لہذا جتنی اجرت پر معاہدہ ہوا ہے مالک سے مقرر شدہ اجرت لینا جائز ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اگر مذکورہ کام مشکل ہے تو مالک کے علم میں لاکر ان کی اجازت سے بڑھائی جاسکتی ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"و عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "«ألا لاتظلموا، ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه». رواه البيهقي في "شعب الإيمان"، و الدارقطني في "المجتبى."

(" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، و أن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه ("لايحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في " المجتبى ". 

(باب الغصب والعاریة، ج:5، ص:1974، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504102088
تاریخ06-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں