بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کا مہر والدہ نے ادا کیا، اب واپسی کا مطالبہ کیسا ہے؟

سوال

 والدین نے  میری شادی کرانا چاہا تو میں نے اپنے والدین سے شادی کے اخراجات کے بارے میں پوچھا،  والدہ نے جواب دیا جو حق مہر ہے وہ میں دے دوں گی، اور ولیمے  کا خرچہ کمیٹی ڈال کر پورا  کریں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔  پھر شادی کے ایک سال بعد گھر میں تنازع کے بنا  پر گھر والوں نے مجھے کہا کہ حق مہر جو ہم نے آپ کو دیا ہے وہ آپ کو یعنی مجھے ادا کرنا ہوگا ، وہ حق مہر جس کےعوض میں نے شادی کی۔

کیا وہ حق مہر والدین کو لوٹانا میرے اوپر واجب ہے یا نہیں؟  اس کا کیا حکم ہے؟  قرآن و حدیث کے روشنی میں رہنمائی فرمائیں!

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائل کی والدہ نے اپنے وعدہ کے مطابق اپنی خوشی سے سائل کی طرف سے مہر ادا کیا تو شرعًا یہ والدہ کی طرف سے سائل کے حق میں تبرع ہوا اور اب والدہ کو واپس مانگنے کا اختیار نہیں ہے اور نہ سائل پراس کی  ادائیگی واجب ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصح ضمان الولي مهرها ولو) المرأة (صغيرة) ولو عاقدا لأنه سفير

قوله وصح ضمان الولي مهرها) أي سواء ولي الزوج أو الزوجة صغيرين كانا أو كبيرين، أما ضمان ولي الكبير منهما فظاهر لأنه كالأجنبي. ثم إن كان بأمره رجع وإلا لا. "

(کتاب النکاح، باب المہر، ج نمبر3، ص نمبر 140، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101956
تاریخ05-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں