بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے سے بڑی عمر کے آدمی کو بیٹا کہنا

سوال

اسلام میں اپنے سے بڑے کو بچہ کہنے کا حکم بتائیں؟

جواب

      صورت مسئولہ میں اپنے سے بڑی عمر کے کسی فرد کو بچہ کہنا مناسب   نہیں  بلکہ ادب کے خلاف ہے۔تاہم اگر  کبھی حد سے زیادہ بے تکلفی میں کہہ دیا جائے، اور بڑا بھی اسے برا نہ منائے تو کوئی حرج نہیں۔

روح البیان میں ہے:

" قال بعض الكبار من الحكمة ‌توقير ‌الكبير ورحمة الصغير ومخاطبة الناس باللين وقال ان كان خليلك فوقك فاصحبه بالحرمة وان كان كفؤك ونظيرك فاصحبه بالوفاء وان كان دونك فاصحبه بالمرحمة وان كان عالما فاصحبه بالخدمة والتعظيم وان كان جاهلا فاصحبه بالسياسة وان كان غنيا فاصحبه بالزهد وان كان فقيرا فاصحبه بالجود وان صحبت صوفيا بالتسليم".

(تفسير سورة الحجرات،٦٩/٩،ط : دار الفكر)

حجة الله البالغة میں ہے:

" السنة الفاشية في الملل جميعها ‌توقير ‌الكبير، ولأنه أكثر تجربة، وأعظم حلما".

‌‌(الجماعة،٤٢/٢،ط : دار الجيل)

مفيد العلوم ومبيد الهموم میں ہے:

"وقال ‌من ‌لم ‌يحترم العلماء ولم يعظم الكبراء فلا تلوموه ولوموا أمه ".

‌‌(‌‌كتاب نوادر العلماء،الباب الرابع في نوادر أقوال أبي حنيفة رضي الله تعالى عنه،٣٨٦،ط : المكتبة العنصرية)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101931
تاریخ04-11-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں